You are here: Home
 
 

حماس اور مصر میں ملاقاتیں، تعلقات اور رکاوٹیں!

E-mail Print PDF

0Pala8548غزہ - (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور پڑوسی عرب ملک مصر کے درمیان براہ راست ملاقاتیں رواں سال جون میں شروع ہوئیں۔ جون میں حماس کا وفد قاہرہ گیا اور اس کے بعد فلسطینی سطح پر اس دورے اور اس کے نتائج کے بارے میں توقعات وابستہ کی جانی لگیں۔ اگرچہ ان ملاقاتوں میں اب تک جتنے امور طے پائے تھے ان میں سے بہت کم کسی پرمصر کی طرف سے عمل درآمد کیا گیا ہے۔

حماس کا وفد ایک بار پھر مصر کے دورے پر ہے۔ اس دورے میں حماس کی اعلیٰ ترین قیادت بھی شامل ہے۔

سابقہ دوروں کی طرح اس دورے کا ایجنڈہ بھی واضح ہے۔ پہلے کی طرح حماس قیادت  غزہ کی پٹی کو ریلیف کی فراہمی پر بات کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی دھڑوں میں مفاہمت، سرحد پر سیکیورٹی سخت کرنا اور بعض مبصرین کے مطابق مزاحمتی تنظیموں کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کا معاملہ بھی مصر اور حماس کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شامل ہے۔

تین روز قبل حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی قیادت میں جماعت کا وفد غزہ سے مصر روانہ ہوا جب کہ بیرون ملک مقیم حماس کی قیادت بھی بات چیت کے لیے قاہرہ پہنچی۔

گذشتہ جون میں حماس اور مصر کے درمیان طے پائے امور میں غزہ کو ایندھن اور بجلی کی فراہمی کی بات شامل کی گئی تھی تاہم رفح گذرگاہ کو کھولنے کا کوئی اقدام نہیں کیا گیا حالانکہ حماس اور مصر کے درمیان ہونے والے رابطوں میں رفح گذرگاہ کے کھلنے کے زیادہ امکانات ظاہر کیے گئے تھے۔

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی جانب سے غزہ کی پٹی کو مزید بحران کے سمندر میں ڈبونے کے فیصلوں کے بعد حماس نے غزہ کے محصورین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مصر سے رابطے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ مگر مصر کا موقف بھی علاقائی موقف سے مربوط ہے جس میں اسرائیل اور امریکا بھی شامل ہیں جو غزہ کے عوام کو کسی قسم کا ریلیف  نہیں دینا چاہتے۔

دورے کے ایجنڈے میں شامل اہم امور

جیسا کے اوپر بیان ہوا حماس اور قاہرہ کے درمیان تعلقات کی گاڑی کئی ماہ قبل چلی مگر اس کی راہ میں رکاوٹیں بھی کافی آئی ہیں۔ رکاوٹوں کا ذکر بعد میں ہوگا۔ پہلے اس دورے کے ایجنڈے پر بات کرلی جائے۔

ان ملاقاتوں کو سب سے زیادہ اگر کسی چیز نے متاثر کیا ہے تو وہ امریکا اور اسرائیل کے فیصلوں کے اثرات ہیں۔ تاہم  ماضی میں حماس اور مصر کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ عید الاضحیٰ کے بعد رفح گذرگاہ کو کھول دیا جائے گا۔ ایندھن کی سپلائی بحال اور دو طرفہ شہریوں کی آمد ورفت کے ساتھ تجارتی آمد روفت کا سلسلہ شروع ہوگا۔ غزہ کی پٹی کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے معاہدے میں تحریک فتح کے باغی رہ نما محمد دحلان کا بھی کردار ہے۔

فلسطینی سیکیورٹی امور کے تجزیہ نگار ڈاکٹر ھشام المغاری کا کہنا ہے کہ ہے کہ حماس کی قیادت کے موجودہ دورے کا ایجنڈے واضح ہے۔ وہ مصری حکومت سے پچھلی ملاقاتوں میں طے پائے نکات پرعمل درآمد کا مطالبہ کریں گے۔ کوئی نیا مطالبہ شاید ہی پیش کیا جائے۔ تازہ دورے کے دوران حماس جماعت کے غزہ کی پٹی کے سربراہ یحییٰ السنوار کے عید سے قبل کے دورے اور اس میں طے پائے امور کو آگے بڑھائے گی۔

ڈاکٹر المغاری نے کہا کہ حماس کے تازہ دورہ مصر کی زمانی اہمیت کو مدنظر رکھا جائے تو اس سے لگتا ہے کہ غزہ کی پٹی کے عوام پر محاصرے کا دباؤ کافی زیادہ ہے۔ محمود عباس نے بھی غزہ کے عوام پر مزید دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے تاہم اس میں خوش قسمتی یہ ہے کہ حماس کی اندرون اور بیرون ملک قیادت غزہ کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک ہی سوچ رکھتی اورعملی اقدامات کررہی ہے۔

فلسطینی سیاسی تجزیہ نگار مصطفیٰ الصواف کا کہنا ہے کہ حماس اور مصر کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں سب سے اہم موضوع غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی ہے۔ یہ بات مصر بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ غزہ کے ساتھ آزاد تجارتی روابط اس کے اپنے مفاد میں ہیں۔

حماس کے دورہ مصر کے دورے کے  اہم مقاصد میں فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کا عمل آگے بڑھانا، اسیران کے تبادلے کی ڈیل، رفح گذرگاہ کا کھولا جانا نیز حماس اور مصر کے درمیان تعلقات کے کئی سالہ جمود کو توڑنا ہے۔

توقعات

حماس کے موجودہ اور سابقہ دوروں کے حوالے سے فلسطینیی عوامی، سیاسی اور ابلاغی سطح پر توقعات وابستہ کی جاتی رہی ہیں۔ چند ہفتے قبل کے دورے کے موقع پر فلسطینی عوامی اور سیاسی حلقوں نے اس دورے سے غیرمعمولی توقعات وابستہ کرلی تھیں مگر شاید عوام کی وہ توقعات پوری نہیں ہوسکی ہیں۔

تجزیہ نگار ھشام المغاری کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو حقیقت پسند ہونا چاہیے۔ کسی بھی دورے سے غیرمعمولی توقعات وابستہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سیاست میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس وقت سب سے اہم یہ ہے کہ غزہ کے محاصرے کی دیوار میں نقب لگایا جائے۔ اس حوالے سے کوئی بھی قدم غزہ کے عوام کے مستقبل کے حوالے سے اہم ہوگا۔

غزہ کی پٹی کے بارے میں مصر کا طرز عمل ہماری سوچ سے مختلف ہے۔ ماہرین مانتے ہیں کہ مصر غزہ کے عوام کو وہ سب کچھ نہیں دے گا جو یہاں کے عوام کی ضرورت ہے کیونکہ اس علاقے میں امریکا اور اسرائیل پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں۔

محمود عباس اور دحلان

غزہ کی پٹی کے اسٹیک ہولڈرز میں تحریک فتح کے مںحرف لیڈر محمد دحلان اور صدر محمود عباس بھی ہیں۔ اول الذکر یعنی محمد دحلان کو مصر کے ساتھ علاقائی قوتوں کی حمایت بھی حاصل ہے جب کہ محمود عباس ٹینک پر سوار ہو کر غزہ داخل ہونا چاہتے ہیں۔ ان کی مرضی غزہ کے عوام کو ریلیف فراہم کرنا نہیں بلکہ ان کی مشکلات میں اور بھی اضافہ کرنا ہے۔

تجزیہ نگار المغاری کا کہنا ہے کہ محمد دحلان کو غزہ اور غرب اردن میں فتح کے ارکان کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے۔ جب تک ان کا سیاسی وزن موجود ہے اس وقت تک حماس ان کے لیے غزہ میں داخلے کے دروازے کبھی بند نہیں کرے گی۔

فلسطینی تنظیموں پر مشتمل تکافل مصالحتی کمیٹی نے غزہ کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ غزہ کے عوام کو سنہ 2007ء جیسی لڑائی میں الجھانے کی قطعا ضرورت نہیں۔

مصطفیٰ الصواف کے بہ قول غزہ کے محاصرے میں نرمی کے حوالے سے دحلان کا کردار اہم ہوگا مگر مسئلہ یہ نہیں کہ حماس دحلان اور اس کے معاونین سے ملاقات کرے۔ حماس جانتی ہے کہ دحلان کیا چاہتے ہیں اور مصر کی کیا خواہش ہے۔

محمد دحلان اور محمود عباس دونوں حماس اور قاہرہ کے درمیان تعلقات کی بحالی کی راہ روکنے کی کوششیں کرچکے ہیں۔ مگر مصرکو بہ خوبی ادراک ہے کہ حماس خطے کا ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے جسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔