You are here: فلسطین دو روز میں 40 ہزار صہیونیوں کی مسجد ابراہیمی کی بے حرمتی
 
 

دو روز میں 40 ہزار صہیونیوں کی مسجد ابراہیمی کی بے حرمتی

E-mail Print PDF

0Pala8861الخلیل - (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی اشرار کی جانب سے فلسطین کی دونوں بڑی مساجد مسجد اقصیٰ اور مسجد ابراہیمی کا تقدس مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔ مذہبی رسومات کی ادائیگی اور مذہبی تہوار کی آڑ میں گذشتہ دو روز میں 40 ہزار صہیونی شرپسند مسجد ابراہیمی میں داخل ہوئے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان دنوں اسرائیل میں صہیونیوں کے مذہبی تہوار’عید العرش’ (سوکوت) کی 10 روزہ تقریبات منائی جا رہی ہیں۔ ان تقریبات اور مذہبی رسومات کی آڑ میں غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل میں واقع جامع مسجد ابراہیمی میں ہزاروں صہیونیوں کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ دو روز کے دوران مذہبی رسومات اور عید کی تقریبات کے لیے 40 ہزار 500 یہودی مسجد ابراہیمی میں داخل ہوئے۔

مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بارڈر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے صہیونی شرپسندوں کو مسجد ابراہیمی میں داخلے کے لیے فول پروف سیکیورٹی مہیا کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 1994ء میں اسرائیل نے مسجد ابراہیمی کو مسلمانوں اور صہیونیوں کے درمیان زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کردیا تھا۔ مسجد ابراہیمی کی تقسیم کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک صہیونی دہشت گرد نے مسجد ابراہیمی میں نماز فجر کے وقت گھر کس درجنوں نمازیوں کو شہید اور زخمی کردیا جس کے بعد مسجد کو بند کر دیا گیا۔

فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ کئی روز سے اسرائیلی فوج اور پولیس نے مسجد ابراہیمی کا محاصرہ کررکھا ہے۔ مسجد میں صرف صہیونیوں کو داخلے کی اجازت دی جاتی ہے۔ فلسطینی شہریوں کو مسجد میں اذان اور نماز کی ادائیگی سے مسلسل روکا جا رہا ہے۔