You are here: Home
 
 

کیا اسرائیل جوہری جنگ کی تیاری کر رہا ہے؟

E-mail Print PDF

0Pala8871مقبوضہ بیت المقدس - (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نےاپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاھو نے جرمنی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے تیار کی جانے والی تین نئی آبدوزوں کو پہلی آبدوزوں کی نسبت زیادہ لمبی رکھے تاہم اسرائیل کے اس مطالبے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نیتن یاھو کا یہ مطالبہ عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ اور جرمن اخبار ’دی زیسٹ‘ نے بھی شائع کیا ہے۔

دونوں اخباروں نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ حال ہی میں نتین یاھو نے جرمن حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے لیے تیار کی جانے والی تین آبدوزوں کی لمبائی زیادہ رکھے۔

عبرانی اخبار کے مطابق اگرچہ نیتن یاھو کی طرف سے یہ مطالبہ کیوں کیا ہے تاہم ماہرن کا کہنا ہے کہ شاید جدید خصوصیات کی حامل آبدوزوں کی کا مقصد انہیں جوہری وار ہیڈ لے جانے اور جوہری حملہ کرنے کے قابل بنانا ہے۔ زیادہ لمبی آبدوزوں کے کےدھانے پر وار ہیڈ لے جانے والے لانچر لگائے جاتے ہیں۔

آبدوزوں میں لمبائی کا مطالبہ اسرائیلی وزارت دفاع، نیول حکام اور سینیر فوجی قیادت کی تجویز پر کیا گیا ہے۔

آبدوزوں میں لمبائی کا مقصد طویل جنگ کے دوران جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں آبدوزوں کو اس قابل بنانا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل جرمنی سے تین جدید ترین آبدوزیں تیار کرا رہا ہے۔ جرمنی کی جدید ترین آبدوزوں پر اسرائیل کی بہت پرانی نظریں ہیں۔ جرمن انٹیلی جنس ایجنسی ’BND‘ بھی اسرائیل کو جدید ترین آبدوزوں کی فراہمی میں دلچسپی رکھتی ہے۔