You are here: Home
 
 

’کرپشن ٹائیکون‘ نیتن یاھو کے بدعنوانی میں معاونت کار!

E-mail Print PDF

0Pala8875مقبوضہ بیت المقدس - (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) ان دنوں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی بدعنوانی کے چرچے عام ہیں۔ ملک کے طاقت ور عہدے پر فائز ہونے کے باوجود نتین یاھو اور ان کے حاشیہ نشینوں کے گرد ان کی بدعنوانی کی وجہ سے گھیرا مسلسل تنگ ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں صہیونی وزیراعظم اور ان کے کرپٹ حاشیہ برداروں کا مختصر تعارف کرایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیتن یاھو کی مبینہ کرپشن کی داستان میں ان کے ساتھیوں میں مذہبی، سیاسی، سماجی اور دیگر شعبون سے تعلق رکھنے والے عناصر شامل ہیں۔

عبرانی ویب سائیٹ ‘دی مارکر‘ نے بھی نیتن یاھو کے مقربین کرپٹ عناصر کا مختصر احوال بیان کیا ہے۔ ذیل میں ان کرپٹ عناصر کا مختصر تعارف پیش ہے۔

شلومو فیلپر

پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل ہے وزارت مواصلات  کا ڈائریکٹر جنرل رہنے کے ساتھ غرب اردن اور وادی اردن میں صہیونی کالونیوں کا چیئرمین رہ چکا ہے۔ کچھ عرسے تک اسے بنجمن  کالونی میں سیکرٹری خزانہ بھی مقرر کیا گیا۔ مختلف عہدوں پر کام کے دوران شلومو فیلپر پر مالی بے ضابطگیوں، عدم شفافیت کے جرائم اور بیزک کمپنی میں مالی خورد برد کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

ارنون میلچائن

ارنون میلچائن ایک کاروباری شخص ہے۔ اس کا شمار امریکا کے ہالی وڈ فلموں کے معروف پروڈیوسروں میں ہوتا ہے۔ اس نے دیمونا میں اسرائیل کا ایٹمی پلانٹ تیار کرنے میں صہیونی ریاست کی مالی مدد کی۔

وہ وزارت دفاع میں ’لاکام‘ نامی ایک انٹیلی جنس کے کے ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھ کام کرچکا ہے۔ لاکام اسرائیل کے بڑے خفیہ اداروں موساد، شاباک اور ملٹری انٹیلی جنس کے ساتھ کام کرچکا ہے۔

سابق اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے اپنی کتاب میں بھی ملچمن کا تذکرہ کیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ ہزاروں ڈالر مالیت کے بیش قیمت مشروبات، سیگریٹ اور دیگر قیمتی چیزیں نیتن یاھو اور ان کی فیملی تک پہنچا چکا ہے۔

جیل شیفر

جییل شیفر کا شمار بھی نیتن یاھو کے مقربین میں ہوتا ہے۔ وہ ماضی میں وزیراعظم کے دفتر میں ملازمین کے شعبے کا انچارج رہ چکا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ ایک اسرائیلی فن کارہ پر فروری 2012ء کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنا چکا ہے۔

کرپشن سے متعلق الزامات میں سے سب سے اہم الزام قومی خزانے کا ناجائز استعمال اور نیتن یاھو اور ان کے خاندان کے بھاری بھرکم اخراجات میں ان کی معاونت کرنا اور اصل اخراجات کو چھپانے میں ان کی مدد کرنا ہے۔

فرح لانر

فرح لانر نیتن یاھو کا سابق مشیر برائے پارلیمانی امور ہے۔ وہ امن عامہ کے وزیر کے ساتھ تکنیکی مشیر کے طور پر بھی کام کرچکا ہے۔ وہ وزارت برائے جنرل سیکیورٹی اور دوسرے اداروں کے درمیان ایک رابطہ کار کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ اس نے ملاوٹ اور بدعنوانی کے الزامات کا اعتراف کیا ہے۔ سنہ 2015ء کو اسے اور اس کی اہلیہ دونوں سے پولیس تفتیش کرچکی ہے۔

فروری 2017ء کو مسٹر لیرنر نے پراسیکیوٹر جنرل کےساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت اس نے پانچ سال تک سرکاری عہدہ نہ لینے اور20 ہزار شیکل جرمانہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ڈیوڈ شمرون

ڈیوڈ شمرون نیتن یاھو کا وکیل خاص ہے۔ وہ ماضی میں اسرائیلی کی ریزرو فوج میں کام کرچکا ہے۔ اسے کچھ عرصہ قبل کشتیوں کی خریداری کے دوران مبینہ رشوت وصولی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ کچھ عرصے تک اسے گھر بھی نظر بند رکھا گیا ہے۔ شمرون معروف تاجر میکی گانور کا مندوب رہ چکا ہے۔ مسٹر میکی جرمن کمپنی ٹیسنکروف   کا مندوب تھا جب اسرائیل نے جرمن  کمپنی سے آبدوزوں اور کشتیوں کے لیے معاہدہ کیا۔

عیزرا سیدوف

عیزرا سیدوف نیتن یاھو کے دفتر میں نجی املاک کے آپریشنل شعبے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پرکام کیا۔ اس پر نیتن یاھو اور اس کی بیوی کے ذاتی اخراجات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے، خاتون اوّل کی والدہ کو خصوصی مراعات دینے اور مہنگے ترین کھانے اور ان کے بھاری بھرکم بل سرکاری خزانے کو بھجوانے کے الزامات عائد ہیں۔

ناتان ایشل

ناتان ایشل سابق فوجی ریٹائرڈ ہے جو ریزرو فوج میں کام کرچکا ہے۔ اس نے کچھ عرصہ نیتن یاھو کے دفتر میں ملازمین کے شعبے کے انچارج کے طور پر بھی کام کیا۔

اس پر غیرمعروف انداز میں سرکاری ملازمین کی تصاویر اتارنے اور خواتین کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اپنانے کا بھی الزام عائد کیا جاتا ہے۔

آری ھارو

آری ھارو بھی اسرائیلی فوج میں کام کرچکا ہے۔ وہ گولانی بٹالین میں کئی سال تک کام کرتا رہا۔ اس نے مودعین کالونی میں رہائش اختیار کی۔ اس سےقبل اس نے ’کرنی شمرون‘ نامی ایک صہیونی کالونی میں ایک مذہبی اسکول سے تعلیم حاصل کی۔

نیتن یاھو کے مقربین میں شمار کیے جانے والے آری ھارو وزیراعظم کے دفتر کا اسٹاف افسر رہ چکا ہے۔ اس پر وزیراعظم اور اس کی فیملی کو غیرقانونی مراعات فراہم کرنے کے الزام میں چھ ماہ قید اور سات لاکھ شیکل جرمانہ کی سزا بھی بھگت رکھی ہے۔

شاؤل الوفیٹچ

مسٹر شاؤل الوفٹیچ مواصلاتی شعبے کا ایک تاجر اور’یورو کوم‘ کمپنی کا مالک ہے۔ یہ کمپنی توانائی اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کرتی ہے۔ اس کی دیگر کمپنیوں میں بیزک گروپ، تدرین کمپنی۔ موٹورولا شامل ہیں۔ اس پر غیرقانونی دستاویزات تیار کرکے ٹیکس سے بچنے، نیتن یاھو اور اس کی جماعت کو سہولیات فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔ اس الزام میں اس کے ساتھ شلومو فیلپر بھی شامل ہے۔

جیمز پاکر

جیمز پاکر ایک آسٹریلوی نژاد ارب پتی ہے جو نیتن یاھو اور اس کے بیٹے یائر کے انتہائی قرینی ساتھیوں میں سے ایک ہے۔ اسرائیل میں ’عبرانی ٹی وی چینل 1‘ کو لانچ کرنے میں بھی مالی معاونت فراہم کی۔ اس پر یائر، موسیقارہ ماریا کاری ، نیتن یاھو اور ان کی اہلیہ کے لیے ہوائی جہازوں کی ٹکٹ خریدنے کا بھی الزام ہے۔ اس کے علاوہ یائر تل ابیب میں واقع پاکر کے مکان میں رہائش پذیر رہ چکا ہے۔ اس نیتن یاھو اور ان کی اہلیہ کےلیے اندرون اور بیرون ملک انتہائی مہنگے کھانوں کا انتظام کرنے اور اس کا بل سرکاری خزانے سے وصول کرنے کا الزام عائد ہے۔

شیلڈون اڈلسن

اڈلسن ایک امریکی یہودی ہے۔ اس کے امریکا، چین اور سینگا پور میں کئی ہوٹل اور کسینو ہیں۔ یہ عبرانی اخبار ’یسرائیل ھیوم‘ کا بھی مالک ہے جب کہ عبرانی نیوز ویب سائیٹ ’nrg‘ بھی اسی کی ملکیت بتائی جاتی ہے۔ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر امریکی شہر لاس اینجلس میں ایک تعلیمی کیمپیس قائم کیا۔ اس کے علاوہ اسرائیل کی ارئیل عبرانی یونیورسٹی کے میڈیکل کالج کی تعمیر کے لیے 20 ملین ڈالر کی رقم دی تھی۔

اڈلسن کو نیتن یاھو کے خلاف جاری کرپشن کیس 2000 کا عینی شاہد قرار دیا جاتا ہے۔  اڈلسن نے سنہ 2015ء میں نیتن یاھو کے ایماء پر کثیرالاشاعت عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ کے مالک نونی موزیز سے مذاکرات کیے تھے جن میں انہوں نے مویز سے کہا تھا کہ وہ پارلیمانی انتخابات کے دوران نیتن یاھو کی زیادہ سے زیادہ کوریج کریں۔