You are here: Home
 
 

’صدی کی ڈیل‘ کو2018ء کے اوائل میں حتمی شکل دینے کی کوششیں

E-mail Print PDF

0Pala9229مقبوضہ بیت المقدس - (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل مل کر ایک نیا امن فارمولہ تیار کررہے ہیں جسے امریکی نگرانی میں سنہ 2018ء میں نافذ العمل کیا جا سکتا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان صدی کی ڈیل کے نام سے مشہور مجوزہ امریکی امن فارمولے پر کام جاری ہے۔ توقع ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے شروع میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرنگرانی اس فارمولے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

عبرانی اخبار نے امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پائے جانے والے تنازعات اور حل طلب امور کے مختلف ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی نئے امن فارمولے پر کام کررہی ہے۔ اس فارمولے کے تحت بیت المقدس کی مستقبل کی حیثیت اور صیہونی کالونیوں کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امکان ہے کہ سنہ 2018ء کے ابتدائی مہینوں کے دوران صدی کی ڈیل کہلانے والا یہ فارمولہ عمل شکل میں لایا جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکا کے مشرق وسطیٰ کے لیے مختص امن مندوب جیسن گرین بیلٹ نے چند ماہ قبل اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے فلسطینی قیادت اور صیہونی ریاست کی حکومت کے ساتھ مستقبل کے امن عمل کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی زیرنگرانی امن فارمولے پر کام کرنے والی ٹیم میں صدر ٹرمپ کے داماد جاریڈ کوشنر، خصوصی ایلچی گرین بیلٹ، اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیویڈ فرید مین اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر ڈینا پاول شامل ہیں۔