You are here: فلسطین اسرائیلی زندانوں میں قید فلسطینیوں کو خیموں میں منتقل کرنے کی تجویز
 
 

اسرائیلی زندانوں میں قید فلسطینیوں کو خیموں میں منتقل کرنے کی تجویز

E-mail Print PDF

0Pala9233مقبوضہ بیت المقدس - (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی داخلی سلامتی کی وزارت نے عقوبت خانوں میں پابند سلاسل فلسطینیوں کو خیموں میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس تجویز کا مقصد عدالت کے اس فیصلے پرعمل درآمد سے راہ فرار اختیار کرنا ہے جس میں صیہونی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جیلوں میں قید فلسطینیوں کے لیے تیار کردہ کمروں کو توسیع کریں۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صیہونی جیل انتظامیہ اور داخلی سلامتی کی وزارت کے نزدیک عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا ایک حل یہ بھی ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو جیلوں سے نکال کر انہیں خیموں میں ڈال دیا جائے۔

خیال رہے کہ گذژتہ جون میں اسرائیل کی سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ جیلوں میں قیدیوں کے لیے بنائے گئے کمروں کو کشادہ کریں۔

عدالت نے یہ احکامات ایک درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے جاری کی تھیں۔ درخواست میں انسانی حقوق کے مندوبین نے موقف اختیار کیا تھا کہ اسرائیلی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو ٹھونسا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کے لیے تیار کردہ کمرے انتہائی تنگ ہیں جہاں قیدیوں کا پوری طرح کھڑے ہونا یا لیٹنا دشوار ہے۔

اس پر عدالت نے انتظامیہ ، جیل خانہ جات اور داخلی سلامتی کے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ قید خانوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو رکھنے کا سلسلہ بند کرے اور قیدیوں کے لیے بنائے گئے کمروں کو توسیع کرتے ہوئے ان کی جگہ تین مربع میٹر کے بجائے چار مربع میٹر کی جائے، تاکہ جیلوں کو عالمی معیار پر لایا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صیہونی انتظامیہ عدالتی فیصلے پرعمل درآمد سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے قیدیوں کو خیموں میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کر رہی ہے۔

اسرائیل کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل فلسطینیوں کو یورپ، کینا، سنیگال اور مارشیس جیسے ملکوں کے قید خانوں میں بند افراد سے بھی ادنیٰ حقوق میسر نہیں۔