You are here: فلسطین بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر فلسطین کا ردِّ عمل یہ ہوگا
 
 

بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر فلسطین کا ردِّ عمل یہ ہوگا

E-mail Print PDF

0Pala9385رام اللہ - (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان سے متعلق خطاب سے چند گھنٹے قبل فلسطینی قوم اپنے سانس روکے بیٹھی ہے۔

اس سلسلے میں فلسطینی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا درالحکومت تسلیم کرنے اور سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے میں کوئی مرکزی نوعیت کا فرق نہیں پایا جاتا۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فتح تحریک کی مرکزی کمیٹی کے رکن ناصر القدوہ کا کہنا ہے کہ "کوئی بھی امریکی اقدام جس میں اسرائیلی موقف کو اپناتے ہوئے بیت المقدس کی پوزیشن کے حوالے سے قانونی ، سیاسی اور عملی تبدیلی شامل ہو گی وہ بیت المقدس کے حوالے سے فلسطینی قومی حقوق پر کُھلا حملہ ہوگا۔ یہ امر خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے خطرہ بن جائے گا اور اسرائیل کے خطرناک نسل پرستانہ جانب دار ویژن کی ترجمانی کرے گا"۔

ممکنہ اقدامات

فلسطینی قومی اتھارٹی کی قانونی اور سیاسی حیثیت کی روشنی میں فتح تحریک نے متعدد عملی اور سیاسی اقدامات وضع کیے ہیں جن کو عمل میں لایا جا سکتا ہے :

بیت المقدس منتقل ہونے والے امریکی سفارتی عملے کے ساتھ کسی قسم کے بھی تعلقات نہ رکھنا۔ بیت المقدس میں امریکی قونصل خانہ ختم کیے جانے کی صورت میں واشنگٹن میں فلسطینی نمائندگی کا دفتر بند کر دیا جائے گا۔

امریکا کے ساتھ بطور مصالحت کار یا سیاسی عمل کے نگراں کسی بھی طرح کے تعاون کے لیے تیار ہونے سے انکار کا اعلان۔ نہ تو براہ راست صورت میں اور نہ چار فریقی بین الاقوامی کمیٹی کے ضمن میں۔

سلامتی کونسل میں مستقل رکن امریکا کے خلاف شکایت پیش کرنا کہ اُس نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی براہ راست خلاف ورزی کی ہے۔ ان قراردادوں میں 2334 ارو 2016 شامل ہیں۔

سلامتی کونسل میں ایک قرار داد پیش کرنا جس میں امریکی اقدام کی مذمت کے ساتھ اس پر نظرثانی اور اس کی منسوخی کا مطالبہ کیا جائے۔ اس موقع پر منشور کے آرٹیکل 27 کا پیراگراف نمبر 3 استعمال کرنے کی کوشش کی جائے جو سلامتی کونسل کے مستقل رکن کو ایسی صورت میں ووٹنگ میں حصہ لینے سے روک دیتا ہے جب وہ تنازع کا ایک فریق ہو۔ متبادل یا ویٹو کی صورت میں جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کی طرف جایا جاتا ہے تا کہ اسمبلی کے فیصلے کے طور پر قرارداد کے متن کا سہارا لیا جائے۔

فلسطینی قومی مقصد کے کام آنے کے لیے مؤثر اور مفید طریقے سے وسیع پیمانے پر عوامی غیض و غضب کو استعمال میں لانا۔

عرب ، اسلامی اور دوست ممالک سے مطالبہ کرنا کہ وہ امریکا کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی سطح پر سنجیدہ مواقف اپنائیں اور ان ممالک میں مشترکہ متعلقہ کمیٹیوں کی جانب سے واضح فیصلوں کے واسطے کام کریں۔