You are here: Home
 
 

جامعہ الازھر کا نصرت القدس کے لیے اسلامی کانفرنس بلانے کا مطالبہ

E-mail Print PDF

0Pala9390قاہرہ - (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) مصر کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھرکے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو صیہونی ریاست کا دارالحکومت قرار دینا انتہائی خطرناک اقدام ہے اور اس کے تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے ٹرمپ کے فیصلے کو رد کرنے کے لیے عالمی اسلامی کانفرنس طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شیخ الازھر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں نصرت القدس کے لیے عالم اسلامی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی حکومت کا فیصلہ مظلوم فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق اور عرب اقوام کے دیرینہ مطالبات، القدس کی دینی اسلامی شناخت کے خلاف کھلی سازش ہے۔ القدس عالم اسلام کا مرکز ہے جس میں مسلمانوں کا تیسرا حرم اور پہلا قبلہ مسجد اقصیٰ واقع ہے۔ امریکا نے القدس کے بارے میں متنازع فیصلہ دیتے ہوئے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو نظر انداز کیا۔ مسلمان مسریٰ رسول صلی اللہ وعلیہ وسلم اور کروڑوں عرب مسیحی اپنی عبادت گاہوں کی بدولت القدس کو ہمیشہ اپنے سینے میں بسائے رکھیں گے۔

شیخ الازھرالشیخ احمد الطیب نے کہا کہ بیت المقدس مقبوضہ علاقہ ہے اور اس کی شناخت صرف فلسطین اور عرب دنیا سے وابستہ ہے۔ دنیا کی انصاف پسند اور ذی عقل طاقتیں اس اہم معاملے کے حل پر توجہ دیں تاکہ کروڑوں مسلمان اور لاکھوں فلسطینی اپنے مقدس مقام سے محروم نہ ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ القدس کے بارے میں امریکی صدر کا فیصلہ نفرت اور تشدد کو ہوا دے گا۔ یہ اقدام دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایک نیا ایندھن ثابت ہوگا اور نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ اس کے منفی اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا کہ عالم اسلام اور عرب ممالک پہلے ہی سنگین مشکلات اور جنگوں کی زد میں ہیں۔ القدس کے باے میں امریکی اقدام نہ صرف ان جنگوں پر تیل چھڑکنے کا کام دے گا بلکہ اس کے نتیجے میں ایک نئی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ امریکی فیصلہ ناقابل قبول، عالمی قوانین اور بین الاقوامی قراردادوں کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ اس مین فلسطینیوں کے بنیادی حق اور القدس کے اسلامی تشخص کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

شیخ الازھر نے نصرت القدس کے لیے عالم اسلامی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام اور پوری عرب دنیا القدس کے بارے میں ایک موقف اختیار کرتے ہوئے امریکی فیصلہ مسترد کردیں