You are here: Home
 
 

’دفاع القدس‘ کے لیے جان نچھاور کرنے والے19 فلسطینی!

E-mail Print PDF

0Pala6318غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) چھ دسمبر 2017ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو قابض صیہونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانہ القدس منتقل کرنے کا حکم دیا۔

ٹرمپ کے اس غیرمنصفانہ اقدام کے خلاف فلسطینی قوم کے ساتھ ساتھ عرب اور مسلمان ممالک میں شدید رد عمل سامنے آیا۔ عالمی برادری نے بھی ٹرمپ کے اعلان القدس پرامریکا کا ساتھ نہیں دیا بلکہ عالمی برادری کے احتجاج نے ثابت کیا کہ امریکا اپنے غیر منصفانہ اقدام میں پوری دنیا میں تنہا ہوگیا ہے۔

ٹرمپ کے اس منحوس اقدام کے رد عمل میں فلسطینی عوام نے بھرپور احتجاجی تحریک شروع کردی۔ ٹرمپ کا یہ متنازع فیصلہ اعلان بالفورکے ایک سو سال پورے ہونے کے بعد سامنے آیا۔ فلسطینی جو پہلے ہی اعلان بالفور کی ایک صدی پوری ہونے کے سراپا احتجاج تھے ٹرمپ کے اعلان سے مزید مشتعل ہوگئے۔ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینی آبادیوں اور صیہونی کالونیوں کو ملانے والے مقامات پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔

اسرائیلی ریاست نے حسب معمول ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینی قوم کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا استعمال کیا۔ منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں القدس پر جان نچھاور کرنے والے فلسطینیوں کی تعداد 17 ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں ٹرمپ کے اعلان کے بعد صیہونی ریاستی دہشت گردی میں شہید ہونے والے ان سترہ فلسطینیوں کا مختصر تعارف شائع کیا ہے۔ ان میں تیرہ فلسطینی غزہ کی پٹی اور چار غرب اردن سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں آدھے جسم والے غزہ کے ابراہیم ثریا اور ایک عمر رسیدہ خاتون بھی شامل ہیں۔

شہداء انتفاضہ نصرت القدس میں دسمبر کے مہینے میں شہید ہونے والے فلسطینی درج ذیل ہیں۔

محمود المصری، عمر 30 سال۔ انہیں 8 دسمبر 2017ء کو اسرائیلی فوج نے غزہ میں مشرقی خان یونس کے مقام پر ٹرمپ کے اعلان کے خلاف نکالی گئی ایک ریلی کے دوران گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔

ماھر عطا اللہ ، عمر 54 سال۔ انہیں مشرقی غزہ میں 8 دسمبر 2017ء کو شہید کیا گیا۔

محمود محمد العطل،  عمر 27سال، انہیں 9 دسمبر 2017ء کو جنوبی غزہ میں اسرائیلی بمباری میں شہید کیا گیا۔

محمد محمد الصفدی، عمر39 سال، انہیں 9 دسمبر 2017ء کو جنوبی غزہ میں القسام بریگیڈ کے ایک عسکری ونگ کے مرکز پر بمباری میں شہید کیا۔


حسین غازی نصراللہ، عمر25 سال، شہید نصراللہ کا تعلق القدس بریگیڈ کے ساتھ ہے۔ ان کی شہادت  12 دسمبر 2017ء کو ہوئی۔

مصطفیٰ السلطان، عمر 29 سال، ان کا تعلق بھی اسلامی جہاد کے القدس بریگیڈ کے ساتھ ہے۔ ان کی شہادت بھی بارہ دسمبر 2017ء کو ہوئی۔

حمدہ الزبیدات کی شہادت 13 دسمبر 2017ء کو  وادی اردن میں ہوئی۔ انہیں اسرائیلی فوج نے ایک صوتی بم حملے کا نشانہ بنایا جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔

یاسر سکر  عمر 23 سال، سکر کو 12 دسمبر 2017ء کو مشرقی غزہ میں جھڑپ کے دوران شہید کیا گیا۔

ابراہیم ابو ثریا، عمر 29سال۔ انہیں 15 دسمبر 2017ء کو مشرقی غزہ میں جھڑپوں کے دوران شہید کیا گیا۔ ابو ثریا نو سال قبل اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں آدھے جسم سے محروم ہوچکے تھے۔

محمد امین عقل  عمر 19 سال، انہیں 15 دسمبر 2017ء کو رام اللہ کے قریب گولیاں مارکر شہید کیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ امین عقل نے ایک اسرائیلی فوجی پر چاقو سے حملے کی کوشش کی تھی۔

باسل مصطفیٰ ابراہیم،عمر 29 سال، باسل ابراہیم کو 15 دسمبر 2017ء کو بیت المقدس کے نواحی علاقے عناتا میں گولیاں مارکر شہید کیا گیا۔

زکریا الکفارنہ ،  عمر 24 سال، الکفارنہ کو 22 دسمبر 2017ء کو غزہ میں جبالیا کے مقام پر سینے میں گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔

محمد نبیل محیسن، عمر 29 سال، انہیں مشرقی غزہ کی پٹی میں 22 دسمبر 2017ء کو گولیاں ماری گئیں جس کے نتیجے میں وہ جام شہادت نوش کرگئے۔

شریف العبد شلاش، عمر 28 سال، شلاش کو 23 دسمبر 2017ء کو غزہ کی پٹی میں جبالیا کے مقام پر اسرائیلی فوج کے حملے میں شہید ہوئے۔

محمد سامی الدحدوح، عمر19 سال، سامی الدحدوح کو 23 دسمبر 2017ء کو مشرقی غزہ میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران گولیاں ماری گئیں جس کے نتیجے میں وہ جام شہادت نوش کرگئے۔

جمال محمد جمال مصلح، عمر 20 سال،  جمال مصلح کو 30 دسمبر 2017ء کو مشرقی غزہ میں البریج کے مقام پر گولیاں مارکر شہید کیا گیا۔

سترہ سالہ مصعب فراس التمیمی کو تین دسمبر 2018ء کو رام اللہ کے قریب گولیاں مارکر شہید کیا گیا۔

16 سالہ امیر عبدالحمید ابو مساعد کو وسطی غزہ میں البریج پناہ گزین کیمپ میں 11 جنوری کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔

سترہ سالہ علی عمرنمر قینو کو غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں گیارہ جنوری 2018ء کو عراق بورین کے مقام پر گولیاں ماری گئیں جس کے نتیجے میں وہ جام شہادت نوش کرگیا۔