You are here: فلسطین اسرائیلی دہشت گردی میں شہید دو فلسطینی بچوں کی تدفین
 
 

اسرائیلی دہشت گردی میں شہید دو فلسطینی بچوں کی تدفین

E-mail Print PDF

0Pala9854غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) جمعرات کو اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے  نتیجے میں شہید ہونے والے دو فلسطینی بچوں 16 سالہ علی عمرنمر قینو اور امیر ابو مساعد کو گذشتہ روز ان کے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کردیا گیا۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دونوں شہداء کے جنازوں اور تدفین کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔

شہید ابو مساعد کووسطی غزہ کی پٹی میں المغازی کیمپ کے ایک قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔اس کی نماز جنازہ میں عوام کا جم غفیر امڈ آیا اور جنازے میں رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔

دوسرے شہید سولہ سالہ علی عمر نمر قینو کو اس کے آبائی علاقے عراق بورین میں سپرد خاک کیا گیا۔

شہید قینو کا جسد خاکی نابلس کے رفیدیا اسپتال سے ایک قافلے کی شکل میں عراق بورین لایا گیا جہاں ہزاروں فلسطینی صہیونی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید بچے کے جنازے میں شرکت کے لیے جمع تھے۔

شہید قینو کی نمازجمازہ جمعہ کے بعد ادا کی گئی جس کے بعد اسے آبائی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔اس موقع جنازے میں شریک فلسطینیوں نے صیہونی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

خیال رہے کہ جمعرات کو اسرائیلی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو فلسطینی بچوں کو شہید کردیا تھا۔ شہداء کی عمریں سولہ اور سترہ سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ کے مطابق اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے تین فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ شہید فلسطینی 16 سالہ امیر عبدالمحمید ابو مساعد کے سینے میں گولیاں لگیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔ تین زخمیوں میں سے ایک کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ (دسمبر) میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کےبعد فلسطین بھر میں اس اقدام کے خلاف ورز مرہ کی بنیاد پر احتجاجی مظاہرےجاری ہیں۔

درایں اثناء غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں عراق بورین کے مقام پراسرائیلی فوج نے فائرنگ کرکے ایک 17 سالہ علی عمر نمر قینو شہید ہوگیا۔