You are here: مقالاجات مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے سیاسی عمل کی موت
 
 

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے سیاسی عمل کی موت

E-mail Print PDF

0Pala9860تحریر: محمد رضا کلہر


موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں مسئلہ فلسطین سب سے زیادہ اتار چڑھاو کا شکار رہا ہے۔ ٹرمپ نے دسمبر 2017ء میں قدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے دیا۔ یہ اقدام گذشتہ دو عشروں میں مسئلہ فلسطین کے بارے میں سب سے بڑی تبدیلی جانا جاتا ہے۔ اگرچہ امریکی سینیٹ میں 1990ء کی دہائی میں ہی یہ قانون منظور ہو چکا تھا کہ قدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے دیا جائے لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر میں اس قانون کو لاگو کرنے اور عملی شکل دینے کی جرات پیدا نہیں ہوئی تھی کیونکہ یہ ایک انتہائی خطرناک اقدام جانا جاتا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد مقبوضہ فلسطین اور دنیا بھر میں انتفاضہ تحریک کا آغاز ہو گیا۔ مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں اب تک متعدد فلسطینی شہید جبکہ چار ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری طرف عالمی برادری نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر کے اس فیصلے کے خلاف قرارداد پیش کی گئی جو بھاری اکثریت سے منظور ہو گئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے چند ہفتے بعد اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک ایسا بل پاس کیا ہے جس نے مسئلہ فلسطین کو مزید پیچیدہ کر ڈالا ہے۔ ایک ہفتہ پہلے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں لیکوڈ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے قانون کا ایک نیا مسودہ تیار کیا ہے جس کے تحت مغربی کنارے اور حتی قدس شریف میں تعمیر شدہ تمام یہودی بستیاں اسرائیلی حاکمیت کے تحت قرار دیئے جانے پر زور دیا گیا ہے۔

اسی طرح اسرائیلی پارلیمنٹ کینسٹ نے "متحدہ قدس" کا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت بیت المقدس کا کوئی حصہ کسی بھی معاہدے کے تحت فلسطینیوں کے سپرد کرنے کی بنیادی شرط کینسٹ کے کم از کم 80 اراکین کی منظوری قرار دی گئی ہے۔ کینسٹ کے 64 اراکین نے اس قانون کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ 51 اراکین نے اس کی مخالفت کی ہے اور ایک رکن نے بے طرفی کا ووٹ دیا ہے۔ یہ قانون اسرائیلی کابینہ کی جانب سے قدس شریف کے بارے میں فلسطینیوں سے مذاکرات سے واضح تضاد رکھتا ہے۔ اس سے پہلے بھی مشابہہ قانون موجود تھا لیکن اس میں 61 کینسٹ اراکین کی منظوری شرط قرار دی گئی تھی لیکن اب یہ عدد بڑھا کر 80 کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کے مذکورہ بالا اقدام کی فلسطینی قوم اور اسلامی دنیا کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں کیونکہ خود اسرائیلی رژیم کا وجود ہی ناجائز اور غیرقانونی ہے لہذا اس کے اداروں کے فیصلے بھی ناجائز اور غیرقانونی ہیں۔ لیکن خود اسرائیل اور اس کے حامیوں کیلئے اس قانون سازی کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ سب سے پہلا اثر تو یہ ظاہر ہو گا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے پرامن طریقہ کار اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے سارے دعوے باطل ثابت ہو جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قدس شریف کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دیے جانے اور اسرائیلی پارلیمنٹ میں مذکورہ بالا قانون منظور کئے جانے کے بعد مختلف فلسطینی گروہوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے قانون کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ قدس شریف کو اسرائیل کا حصہ بنانے کی کوشش درحقیقت فلسطینیوں کے حقوق پامال کرنے پر مبنی اسرائیلی پالیسیوں کا تسلسل ہے اور امریکی صدر کی جانب سے قدس شریف کے بارے میں خطرناک اعلان کے زیر سایہ قبلہ اول پر قبضہ جمانے کی سازش ہے۔ فتح آرگنائزیشن نے بھی امریکی صدر کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے امن مذاکرات کا خاتمہ قرار دیا۔ دوسری طرف فلسطین اتھارٹی کے ترجمان نبیل ابوردینہ نے بھی کہا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے قدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا جانا اور اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے بیت المقدس کے بارے میں متنازعہ قانون کی منظوری ایک طرح سے فلسطینی عوام کے خلاف جنگ کا اعلان ہے۔

ابوردینہ نے کہا: "نہ ہی قدس شریف کے بارے میں ٹرمپ کا فیصلہ اور نہ ہی اسرائیلی پارلیمنٹ میں منظور شدہ قانون قانونی جواز کا حامل نہیں۔ فلسطینی حکومت ہر گز ان خطرناک منصوبوں کو عملی شکل اختیار کرنے کی اجازت نہیں دے گی جو خطے اور پوری دنیا کے مستقبل کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔" ایک اور فلسطینی گروہ اسلامک جہاد کے ایک اعلی سطحی عہدیدار خالد البطش نے بھی اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ لیکوڈ پارٹی کی جانب سے اسرائیلی پارلیمنٹ میں مسودہ پیش کئے جانے کی بنیاد درحقیقت امریکی صدر کا اقدام تھا کہا: "آج فلسطینی قوم ایک وسیع اور بڑی جنگ سے روبرو ہے۔ مسلمان لیکوڈ پارٹی کی جانب سے پیش کرد مسودے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور فلسطین اتھارٹی کے عہدیداران اور قومی لیڈران کو چاہئے کہ وہ یہودی آبادکاروں کا مغربی کنارے آنا جانا بند کر دیں۔ ہمیں اپنی تمام تر توانائیاں اسرائیل کے مقابلے میں لانی چاہئیں اور اس کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں کیونکہ تل ابیب مغربی کنارے پر اپنا قبضہ بڑھا کر فلسطینیوں کو ان کے حقوق سے محروم کر دینا چاہتا ہے۔"

اردن حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے بھی اپنا موقف ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی پارلیمنٹ کینسٹ میں متحدہ قدس نامی قانون منظور کئے جانے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی بیت المقدس 1967ء کی مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا حصہ ہے اور بیت المقدس شہر ایک اہم ایشو ہے جس کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر فلسطینی اور اسرائیلی حکام میں مذاکرات اور بات چیت ضروری ہے۔ محمد المومنی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اسرائیل کے ایسے تمام یکطرفہ اقدامات جن کا مقصد جدید زمینی حقائق مسلط کرنا اور قدس شریف کی حیثیت میں تبدیلی لانا ہے باطل اور غیرقانونی ہیں۔

اسرائیلی پارلیمنٹ میں مذکورہ بالا متنازعہ قانون ایسے وقت منظور کیا گیا ہے جب فلسطین میں مذاکرات کے حامی گروہ گذشتہ کئی سالوں سے اسرائیل سے بات چیت اور مذاکرات میں مصروف ہیں اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ فلسطین کے حل کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ کینسٹ میں اس قانون کی منظوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں سے بات چیت اور مذاکرات میں مخلص نہیں تھا بلکہ صرف اپنے لئے مزید وقت اور مہلت حاصل کر رہا تھا تاکہ مناسب موقع ملتے ہی پورے فلسطین پر قبضہ جما لے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں مںظور ہونے والے قانون کی روشنی میں بیت المقدس کو اسرائیل کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور اس کے بارے میں کسی قسم کا فیصلہ کنسٹ میں دو سوم اکثریت کی حمایت کے بغیر نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ امر ان سیاسی مذاکرات کی موت کے مترادف ہیں جن سے فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس گذشتہ کئی سالوں سے امید لگائے بیٹھے تھے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کینسٹ میں اس متنازعہ قانون کی منظوری درحقیقت سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے غدارانہ منصوبے کا حصہ ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اس بارے میں لکھتا ہے: "سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ بیت المقدس کے نواح میں واقع قصبے "ابودیس" کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیں۔" شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ مشورہ درحقیقت سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اس منصوبے کا حصہ تھا جو اس نے 2014ء میں "گریٹ قدس" کے عنوان سے پیش کیا۔ جان کیری نے اس منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ "ابودیس" قصبے کو اپنا دارالحکومت بنا لیں۔ سابق امریکی وزیر خارجہ کا دعوا تھا کہ ان کے منصوبے کا مقصد فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان جنگ کا خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام ہے۔ اس نے اپنے منصوبے کا نام "گریٹ قدس" یہ تاثر دینے کیلئے رکھا کہ فلسطین کا دارالحکومت قدس شریف کے کسی بھی حصے میں قرار دیا جانا ممکن ہے۔

امریکی حکام اس منصوبے کے ذریعے مشرقی بیت المقدس اور مغربی بیت المقدس پر مبنی تقسیم سے چشم پوشی کرنا چاہتے تھے تاکہ اس طرح قدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا زمینہ فراہم کر سکیں۔ امریکی حکام نے 2014ء میں اپنے ناکام ہونے والے منصوبے کو ایک بار پھر سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی زبانی فلسطین اتھارٹی محمود عباس کے کانوں تک پہنچایا اور ایک طرح سے ان پر یہ منصوبہ قبول کرنے کیلئے دباو ڈالا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قدس شریف کے بارے میں اسرائیلی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والا متنازعہ قانون بیت المقدس کے بارے میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے منصوبے کا ہی ترجمان ہے۔

نتیجہ گیری
قدس شریف کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان فلسطین کے بارے میں اسلامی دنیا اور حتی عالمی برادری کے باہمی اتحاد کا باعث بنا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں متنازعہ قانون کی منظوری درحقیقت ایک طرح سے مقبوضہ فلسطین اور بیت المقدس سے متعلق امریکی صدر کے فیصلے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اقدامات فلسطینی گروہوں کا آپس میں متحد ہونے کا باعث بنیں گے اور فلسطینی عوام کو اس نتیجے تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوں گے کہ مقبوضہ فلسطین کی آزادی، فلسطینیوں کے جائز حقوق کی بازیابی اور مسئلہ فلسطین کے مستقل حل کا واحد راستہ اسلامی مزاحمت اور مسلح جدوجہد ہے۔