You are here: Home
 
 

فلسطینیوں سے ہمدردی اور یکجہتی، یورپی یہودی کا 5000 کلومیٹر سفر مکمل

E-mail Print PDF

0Pala10166بلغراد (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی قوم پر مظالم ڈھانے میں پیش پیش یہودی قوم میں خال خال ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اپنی قوم کے فلسطینیوں سے سفاکانہ رویے سے خوش نہیں اور وہ گاہے بہ گاہے فلسطینیوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا بھی اظہار کرتے ہیں۔

فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والوں میں ایسا ہی ایک یہودی شہری سویڈن سے حال ہی میں چار ہزار 800 کلومیٹر کا طویل سفر پیدل فلسطین چل کر فلسطین پہنچنے کا عزم کیا ہے۔ اس کے اس مشن کا مقصد فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے ڈھائے جانے والے مظالم پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سویڈن کے سماجی کارکن بنجمن لاڈرا نے اپنا منفرد  سفر گذشتہ برس اگست میں ’گوٹیروگ‘ سے شروع کیا ہے جہاں وہ چند روزہ سفر میں ’لینکو بینگ‘ پہنچا ہے۔ وہاں سے وہ جرمنی اور اس کے بعد آٹھ ملکوں کو عبور کرکے فلسطین پہنچے گا۔

لاڈرا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگوں کے دوران فاسفورس بمبوں کی بارش کی، اسپتال، اسکول اور شہری تنصیبات پر وحشیانہ حملے کیے، ایمبولینسوں، زخمیوں اور امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا اور امدادی آپریشن میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ محصورین غزہ تک امداد پہنچانے کی کوششوں کو روکا۔ افسوس یہ ہے کہ فلسطینیوں کو نہ تو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں اور نہ انہیں عالمی قوانین کے ذریعے تحفظ حاصل کرنے دیا جاتا ہے۔ نہتے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل نے جو کچھ کیا اس نے مجھے دلی طور پر بہت دکھی کیا ہے۔ اس لیے میں نے ایک طویل سفر پیدل چل کر دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے فلسطینی بھی انسان ہیں۔ ان کے بھی حقوق ہیں۔ اسرائیل ان کے خلاف جو کچھ کررہا ہے وہ سب غیرانسانی ہے۔ دنیا میرے اس پیدل سفر کی بدولت مسئلہ فلسطین کے حل کی طرف توجہ دے۔

بنجمن لاڈرا کا کہنا ہے کہ سویڈن قوم سمیت دنیا کی بیشتر اقوام مسئلہ فلسطین کی حقیقت سے آگاہ نہیں۔ وہ اپنے پورے سفر میں فلسطین کا پرچم لہراتا جائے گا۔ لوگ اس کے سفر کے بارے میں پوچھتے ہیں اور وہ انہیں بتاتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ کیا ہے؟َ ظالم کو اور کون مظلوم ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ سویڈن سے فلسطین پہنچنے تک سات سے آٹھ ملکوں سے گذرے گا۔ اس کا سفر سویڈن سے شروع ہوگا جس کے بعد وہ جرمنی، سلوینیا، کروشیا، یونان، تُرکی، قبرص اور وہاں سے کشتی کے ذریعے حیفا پہنچے گا۔

اس کا کہنا ہے کہ میں نے تین ہفتے فلسطین میں گذارے جہاں فلسطینیوں پر ہرطرف اسرائیلی مظالم کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ 300 کم سن فلسطینی بچے صہیونی فوج کی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔