You are here: Home
 
 

مقبوضہ فلسطین میں صیہونی بستیوں کا معاملہ امن عمل کو پیچیدہ بنا سکتا ہے: ٹرمپ

E-mail Print PDF

0Pala10171واشنگٹن (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ وہ صیہونی آباد کاری کے معاملے میں احتیاط سے کام لے کیونکہ اس سے امن عمل پیچیدگی کا شکار ہو سکتا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انھوں نے ایک اسرائیل اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ فلسطین اور اسرائیل امن مذاکرات کے لیے فی الحال راضی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ہم دیکھیں گے کہ کیا ہو گا۔ اس وقت فلسطین امن عمل شروع نہیں کرنا چاہتے۔ اسرائیل کے حوالے سے بھی میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ انہیں بھی اس میں کوئی دلچسپی ہے اس لیے ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔

صیہونی بستیوں کے امن منصوبے کا حصہ ہونے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا ہم ان بستیوں سے متعلق بات کریں گے۔ ان بستیوں نے چیزوں کو ہمیشہ پیچدہ بنایا اور میرا خیال ہے کہ اسرائیل کو ان بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے محتاط ہونا چاہیے۔ مشرقی یروشلم اور مغربی پٹی میں 1967 کے بعد سے تعمیر کی جانے والے صیہونی بستیوں میں چھ لاکھ سے زائد صیہونی آباد ہیں۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ آباد کاری غیر قانونی ہے تاہم اسرائیل اس بات کی مخالفت کرتا ہے۔ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر امریکی صدر کا کہنا تھا یروشلم کا دارالحکومت ہونا بہت سے لوگوں کے لیے ایک اہم چیز تھی۔ میں نے ایک اہم وعدہ کیا تھا جو میں نے پورا کیا۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ پورا شہر اس کا دارالحکومت ہے جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم ان کا علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا تھا کہ وہ اس فیصلے کے بعد امریکہ کو مزید ثالث کی حیثیت سے قبول نہیں کریں گے۔