You are here: Home
 
 

صیہونی فوجیوں کو کیمروں کے استعمال سے روکنے کا محرک ؟

E-mail Print PDF

0Pala10695مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی شدت پسند مذہبی سیاسی جماعت ’اسرائیل بیتنا‘ نے فوج میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے دوران سروس تصاویر کے لیے کیمروں کے استعمال پر پابندی عائد کرانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزیر دفاع آوی گیڈور کی جماعت نے فوج میں سروس کرنے والے اہلکاروں کے لیے کیمروں کا استعمال روکنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔

ٹی وی پر نشر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل بیتنا کی جانب سے ایک نیا مسودہ قانون تیار کیا جا رہا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ پانچ سال تک لازمی فوجی سروس کے دوران فوجیوں کو کسی قسم کا کیمرہ استعمال کرنے سے روکا جائے کیونکہ فوج کا کیمروں کا استعمال اسرائیل کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں صیہونی مذہبی سیاسی جماعت کی اس تحریک کو ایک اور نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجیوں کو کیمروں کے استعمال سے اس لیے روکا جا رہا ہے تاکہ صیہونی آباد کاروں اور خود فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے خلاف ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو سوشل میڈیا تک پہنچانے سے روکا جاسکے۔

یہ تحریک ایک ایسے وقت میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جب اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غرب اردن، بیت المقدس اور غزہ کی پٹی میں انسانی حقوق کی سنگین پالیوں کے ریکاڈ پر موجود واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

عبرانی ٹی وی نے ’اسرائیل بیتنا‘ کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ بائیں بازو کی تنظیموں کی فلسطینیوں کی حمایت پر مبنی سرگرمیوں پر روک لگائی جاسکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں بائیں بازو کی تنظیمیں اسرائیلی فوج اور صیہونی آباد کاروں کے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات کو سامنے لا کر اسرائیلی ریاست کی آئینی حیثیت کو مشکوک بنا رہی ہیں۔