You are here: فلسطین جولائی میں 5 ہزار صیہونی شرپسندوں کے قبلہ اوّل پر دھاوؤں کا نیا ریکارڈ
 
 

جولائی میں 5 ہزار صیہونی شرپسندوں کے قبلہ اوّل پر دھاوؤں کا نیا ریکارڈ

E-mail Print PDF

0Pala7682مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) روز مرہ کی طرح صیہونی فوج اور پولیس کی سرپرستی میں صیہونی آباد کاروں کے قبلہ اوّل پر اشتعال انگیز دھاووں کا سلسلہ جاری ہے۔ القدس اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری کردہ تازہ اعدادو شمار کے مطابق جولائی 2018ء کے دوران پانچ ہزار صیہونی آباد کاروں، اسرائیلی فوجیوں، پولیس اہلکاروں، صیہونی ارکان پارلیمنٹ، سیاست دانوں، طلباء اور انتہا پسند تنظیموں کے ارکان نے قبلہ اوّل میں گھس کر مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جولائی کے مہینے میں صیہونی آباد کار روز مرہ کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے رہے۔ مجموعی طورپر 4962 صیہونیوں نے قبلہ اوّل کی بے حرمتی کی اور عبادت کی آڑ میں مقدس مقام کا تقدس پامال کیا۔

رپورٹ کے مطابق جولائی میں قبلہ اول پر دھاوا بولنے والوں میں 3809 صیہونی آباد کار، 342 پولیس اہلکار، 99 انٹیلی جنس اہلکار،204 صیہونی طلباء اور 505 اسپیشل فورسز کے اہلکار شامل تھے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ کے تین عہدیدار اور 45583 سیاح بھی مسجد اقصیٰ میں آئے۔

اس سے قبل جولائی سنہ 2009ء میں 6 ہزار صیہونیوں نے قبلہ اوّل پر دھاوا بولا، مگر اس کے بعد اس میں کمی آئی تھی۔ 2017ء کی جولائی  کی نسبت رواں سال 70 اور 2016ء کی نسبت 300 فی صد اضافہ ہوا۔